Islam me masawat mard o zan
اسلام میں مساوات:
مر د و عورت کے درمیان برابری کی بات کی جاۓ تو یقینا اسلام نے مرد و زن کے درمیان مساوات کی بہترین مثال قائم کی ہے۔ دیگر مغربی ممالک کی طرح صرف کھوکھلے دعوے نہیں کئے بلکہ صحیح معنوں میں عورت کو اسکا صحیح مقام اور مرتبہ دیا ہے۔
انسانیت کے اعتبار سے مساوات:
اسلام نے عورت اور مرد کو انسانیت کے ناطے سے برابری کا درجہ دیا ہے۔اور دونوں کو قابل احترام بتایا ۔دونوں کی عزت افزائی کی ۔اللہ کہتا ہے:"کہ ہم نے بنی آدم کو(مرد و عورت )کو عزت دی۔
:اسی طرح دوسری جگہ فرمایا
اسلام نے واضح طور پر فرما دیا کی یہ کائنات صرف مرد کی وجہ سے نہیں بنی بلکہ یہ کائنات مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے بنی ہے ۔ نبی کریمﷺنے فرمایا۔۔۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں کا ہم رشتہ،ایک گٹھلی کے دو دانے،اور ایک درخت کی دو شاخ ، ایک شاخ کے دو پھل قرار دیا ہے۔
مذہبی مساوات:
مذہب اسلام میں انسان کی کامیابی اور سر بلندی صرف اور صرف تقوی پر ہے۔اللہ کا ارشاد ہے۔۔۔۔
اسلئے مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔مرد عورت پر اسلئے فائق نہیں ہو سکتا کہ وہ مرد ہے اور نہ عورت اپنے عورت ہونے کی وجہ سے حقیر و کمتر ہے۔ بلکہ اللہ کے نزدیک محبوب صرف متقی ہے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت ۔
اسلام میں ہر انسان کی شخصیت محترم ہے ۔چنانچہ مومن مردوں کے ساتھ مومنہ عورتوں کو تکلیف پہنچانے والوں کو بھی نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ کرتا ہے کہ۔۔۔
اسی طرح اللہ تعالی نےدوسری جگہ مومن عورتوں
اور مردوں کو نیک اعمال پر برابر ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے ، فرمایا۔۔۔۔۔
دوسری جگہ واضح الفاظ میں فرمادیا کہ۔۔
مذہب کےاعتبار سے اللہ نے مرد و عورت کے
درمیان مساوات کو قائم کیا۔ اور فرمادیا مذہبی اعتبار سے دونوں برابر ہے۔
قوانین میں مساوات:
اسلام نے مرد وعورت کے قوانین کا بھی تعین کر دیا ہے ۔
اور ان قوانین میں اس قدر اعتدال اور توازن ہے کہ نہ
عورت زیر ہو سکتی ہے اور نہ مرد زبر دستی کر سکتا ہے۔
شریعت کا یہ کلی اصول ہے کہ قاتل سے قصاص لیا جاۓ
خواہ وہ کسی عورت کو قتل کرے یا مرد کو،کیونکہ عورت کی جان بھی اسی طرح معزز و محترم ہے جسطرح ایک مرد کی۔
نبی کریمﷺ نے اہل یمن کو قوانین کا مجموعہ تحریر
کروایا تھا اسمیں اس بات کی تصریح تھی کہ"اِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْءَةِ" بےشک مرد کو عورت کے بدلے قتل کیا جائیگا۔
کتب صحاح کی ایک روایت میں ہیکہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر کچل کر ہلاک کر دیا تو رسولﷺنے یہودی سے اسی طرح قصاص لیا (یعنی اسکا سر کچل کر)۔
اگر عورت اپنے کسی عزیز کے قتل کو معاف کردے تو کسی رشتہ دار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسکے عطا کردہ پروانہ معافی کو ختم کر سکے۔
حضرت عائشہ ؓنبی کریم ﷺسے روایت کرتی ہیکہ آپ نے فرمایا:"اگر مقتول کے اولیاء(سرپرست) قاتل سے دیت لینے اور جان لینے کے بارے میں اختلاف کرنے لگے اور کوئی قریبی رشتہ دار قاتل کی جان کو معافی عطا کر دے تو دوسرے تمام رشتہ داروں کو قاتل کی جان لینے سے رک جانا چاہئے ۔معافی دینے والا چاہےایک عورت ہی کیوں نہ ہو"۔
حتی کہ اگر عورت حالت جنگ میں کسی دشمن کو پناہ دے تو اس کی پناہ کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
فتح مکہ کے وقت ام ہانی نے نبی کریم ﷺسے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے ابن ہبیرہ کو پناہ دی ہے لیکن علیؓ کہتے ہیں کہ وہ اسکو قتل کر کے رہیں گے۔آپﷺ نے فرمایا "اے ام ہانی!! تم نے جسے پناہ دی اسے ہماری بھی پناہ ہے"۔
اسلام سے پہلے کسی بھی تہذیب میں عورت کو خرید و فروخت اور دیگر معاملات و معاہدات کا حق حاصل نہ تھا ،لیکن اسلام نے دیگر امور و معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی اسکو مرد کے برابر کا درجہ دیا۔ چنانچہ جس طرح مرد کماتا ہے اس طرح عورت بھی اپنی حدود میں رہ کر کمائی کرسکتی ہے ۔اللہ فرماتا ہے۔۔۔۔
مساوات کا تصور۔اس سے بہتر مرد و عورت کے درمیان مساوات کی مثال کوئی اور مذہب اور قوم نہیں قائم
کر سکی ۔










Comments
Post a Comment