Posts

Showing posts from August, 2020

Maa ka maqam

Image
  عورت بحیثیت ماں: ماں کو ہر دور میں اور ہر مذہب میں عزت و احترام دیا گیا ہے اور اولاد کیلئے والدین کی عزت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن باپ کو ماں پر مقدم رکھا گیا ہے۔ ماں کا  مرتبہ اسلام میں: اسلام نے یہاں بھی عورت کو فضیلت و اہمیت دی اور ماں کو باپ پر مقدم رکھا ۔گوکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور ماں باپ کے ساتھ انتہائی نرمدلی محبت کا برتاؤ کرنے کا حکم دیاہے اور انہیں اف تک کہنے سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:        اسلام میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ماں بچے کو نو ماہ تک شکم میں رکھتی ہے اور تکلیف پر تکلیف برداشت کرتی ہے لیکن پھر بھی اسکے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔  سورہ لقمان ،آیت/١٤میں اللہ کا ارشاد ہے:"ہم نے انسان کو اسکے ماں باپ کے بارے میں وصیت کی ہے،اسکی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اسکی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے ،تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر،میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ ماں خواہ مومنہ ہو یا مشرکہ حسن سلوک کی مستحق ہے۔ ان تمام آیات و احادیث میں ماں ...

Biwi ke huquq

Image
  عورت بحیثیت بیوی: عورت کا دوسرا روپ بیوی کی صورت میں ہے۔دنیا کے تم مذاہب میں عورت سے دور رہنے کو تقدس اور پارسائی خیال کیا جاتا ہےاور رہبانیت اور ترک دنیا کو قرب الہی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔عیسائیت میں تو ننیں اور راہب پوری زندگی بغیر شادی کے گزار دیتے تھے،اسطرح سادھو اور سنت بھی عورت سے دور رہنے کو پاکیزگی سمجھتے تھے۔ اسلام میں بیوی کا مرتبہ: اسلام نے عورت کو مرد کی زندگی کا لازمی جزء قرار دیا اور فرمایا کائنات کا ایک حصہ اگر مرد ہے تو دوسرا حصہ عورت ہے۔اللہ نے مرد وعورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ۔فرمایا:"هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ"-تم انکے لئے لباس ہو اور وہ تمہارے لئے لباس ہے۔        عورت پر شادی کے ذریعہ اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے۔اسے گھر،سکون،پیار و محبت عطا کیا ۔اسے گھر کی مالکن بنایا۔فرمایا      یہاں مردوں کا ایک درجہ عورتوں پر زیادہ بتایا گیا ہے کیونکہ وہ گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔وہ باہر کماتا ہے،محنت مزدوری کرتا ہےصرف عورتوں اور بچوں کیلئے۔فرمایا بیوی کے حقوق:     مرد انکے اخراجات پورے کرنے کے ذم...

Beti rahmat hai

Image
  بیٹی دور جہالت میں: اسلام سے قبل عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ چاہے بیٹی ہو ،بیوی ہو یا ماں ہوں ہر  روپ میں دھتکاری گئی۔بے عزت بے حیثیت کی گئی۔   جاہل عرب تو بیٹی کی پیدائش کو ہی باعث  شرمندگی سمجھتے تھے۔          غیر مسلم دنیا میں لڑکی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔  بیٹی رحمت ہے: مذہب اسلام نے بیٹی کو رحمت اور والدین کی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔انکی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت دی ہے۔ حدیث میں آتا ہے:۔ دوسری جگہ فرمایا: جو کوئی ان لڑکیوں کی وجہ سے کچھ بھی آزمایا گیا ،پھر اس نے انکے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو یہ لڑکیاں اسکے لئے جہنم سے آڑ ہونگی۔ بیٹی دور جدید میں: صدیوں پہلےجاہل عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ آج دور بدل گیا ہے،ہم ترقی یافتہ دور میں رہ رہے ہیں لیکن بیٹیوں کے متعلق سوچ آج بھی وہی صدیوں پرانی ہے۔بیٹوں کی پیدائش آج بھی باعث فخر ہے۔ بیٹی پیدا کرنا آج بھی نا قابل معافی جرم جسکی پاداش میں بیٹیوں کو طلاق کی سزا دی جاتی ہے۔       صرف اتنا ہی نہیں کئی لوگ تو بیٹی کی پیدائش کے ڈر سے اسے ماں کے پیٹ م...

Women in islam

Image
  عورت سماج میں: انسانی زندگی کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ عورت کا ہے کہ عورت اس تمدنی زندگی میں کیسی رہے؟ مرد کے ساتھ اسکا تعلق کیسا ہو؟ اس معاشرے میں عورت کا مقام کیا ہے؟  اس معاملے پر جب ہم غور  کرتے ہیں توافراط و تفریط کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ کہیں اسےلونڈی کا درجہ دے کر سماج کا ایک ناکارہ حصہ قرار دیا گیا تو کہیں اچانک اسے ابھارا جا رہا ہے اور اسے معاشرے میں ایک ایسا مقام دیا جا رہا ہے جہاں اسکے اصل تشخص کو دبا کر ایک اور ہی تشخص کا لبادہ چڑھادیا گا ہے،جہاں رہ کر وہ عورت نہیں رہتی بلکہ مرد بن جاتی ہے۔۔۔           اور جب عورت کو اسکے اصل مقام سے آگے بڑھادیا گیا تو پھر بے حیائی اور بد اخلاقی کا طوفان اٹھ کھڑاہوا ،شہوانیت ہر طرف عام ہو گئی اور عورت محض جنسی تسکین کا ذریعہ بن گئیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جب کوئی قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجاۓ تو اسکا نتیجہ ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔   عورت اسلام میں:         لیکن اگر کسی مذہب نے اس مسئلہ میں اعتدال سے کام لیا ہے تو وہ ہے مذہب اسلام ۔اسلام نے دیگر قوانین و مذا...

Freedom of women

          علماء یورپ کا فیصلہ: ہم جانتے ہیں کہ علماء مشرق کتنے ہی قابل کیوں نہ ہو لیکن مشرق والے انکو اپنے کھیت کی مولی ہی سمجھتے ہیں۔انکے مقابلے میں علماء مغرب کی ہر آواز کو آسمانی آواز  کا درجہ دیتے ہیں۔اسلئے عورتوں کی آزادی اور فرائض کے بارے میں ہم مغرب کی حقیقت کو خود مغربی علماء کی زبانی واضح کرتے ہیں۔        یورپ  کا اافضل ترین عالم اور چوٹی کا مصنف ژول سیمان لکھتا ہے"عورت کو چاہئے کہ عورت ہی بنی رہے،ہاں بے شک عورت کو چاہئے کہ وہ عورت ہی رہے۔اسی میں اسکے لئے فلاح اور کامیابی ہے۔ عورت پنے کی خوبی ہی اسکو با برکت بناۓگی اور سعادت کی منزل تک پہنچاۓگی۔قدرت کا یہ قانون ہے اور قدرت کی یہ ہدایت ہے،اسلئے عورت جس قدر قدرت سے قریب ہوگی اسکی سچی قدر اور اصلی عزت بڑھیں گی،اور جس قدر دور ہوگی اسکی مصیبتیں بڑھیں گی اور وہ ذلیل و رسو ہوگی۔       کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی سراسر پاپ ہے، پاکیزگی سے خالی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ انسانی زندگی بڑی دلفریب ،پاک اور پاکیزہ ہے ہاں شرط یہ ہے کہ ہر مرد وعورت اپنی اپنی ذمہ داریوں...

Modern ideas about the woman

ظلم کے نتائج: ظلم کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا ۔عورت ایک طویل عرصہ تک مظلوم چلی آرہی تھی، جب اسکی مظلومیت اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اسکے نتائج بھی انتہائی گھناؤنی شکل میں نمودار ہونے لگے۔ دور جدید میں جہاں زندگی کے بہت سے میدانوں میں انقلاب  آیا وہی عورت کی سماجی حیثیت بھی بدل گئی۔ایک وقت تھا جب مرد اسکو صحیح مقام دینےتک کو تیار نہ تھا لیکن جیسے ہی مو قع ملا وہ اپنی اصل پوزیشن سے آگے بڑھتی چلی گئ اور مزید بڑھتی جا رہی ہے۔          عورت کو آزادی کے اس مرحلے تک پہنچانے میں تاریخی طور پر  وقت کے حالات نے بھی ساتھ دیا۔ مرد کی چیرہ دستی اور ظلم کے خلاف نفرت اور غم و غصہ کے شدید جذبات نے بھی آزادئ نسواں کی تحریک کواپنے اندر رہنے نہیں دیا اور اس نے عورت کو وہاں پہنچادیا جہاں عورت عورت نہیں رہتی بلکہ مرد بن جاتی ہے ۔     جدید نظریات:       پہلی عالمگیر جنگ جو 1914 میں شروع ہوئی اور 1919میں ختم ہوئی اسکے بعد ہمارے ملک میں تعلیم اور خیالات کے اعتبار سے دو گروہ پیدا ہوئے ایک گروہ جو پرانی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں اور دین دھرم کے گرد گھو...

The status of Roman and Jewish women

عورت روم کی نظر میں:         روم کے اندر تو عورت کا مرتبہ اور ہی پست تھا۔گھر کے ہر فرد کو جو اسکا مالک ہو یا نگراں ہو اسے مکمل اختیار تھا کہ وہ جب چاہےاسے گھر سے نکال سکتا ہے۔‌‌ نیز باپ کو بھی یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی  دختر کو جب چاہے جہاں چاہے جس وقت چاہے جس سے چاہے شادی کر دےاور اگر چاہے تو اسکی ازدواجی زندگی ختم کردے۔اور اسکے شوہر کو تو اتنا اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی بیوی کو قتل بھی کر سکتا ہے۔        عورتوں کو سامان کی طرح خریدا اور بیچا جاسکتا تھا عورتوں کا کام صرف یہ تھا کہ وہ دن بھر گھر میں کام کریں اور باہر جا کر مزدوری کریں اور گھر کا سارا کام اور ضروریات کا انتظام کریں،غرض کہ عورتوں کا انکے نزدیک کوئی احترام اور عزت نہیں تھی۔       روم عورتوں کو سانپ اور بچھو سے زیادہ کمتر سمجھتے تھے۔ یہود کی نظر میں عورت:     یہود کی نظر میں وہ شخص خوش قسمت ہے جسکی اولاد میں صرف لڑکے ہوں ،اور وہ وہ شخص بد قسمت ہے جسکے یہاں صرف لڑکیاں ہوں۔ عورت نسل کی بقاء کے لئے ضروری ہے لیکن نفس کے لیے مرغوب نہیں ہے۔ عہد قدیم میں عور...

Woman in Hinduism

ہندو مذہب میں عورت کامقام:                 ہندوستان ایک مذہبی ملک سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اسکی حیثیت ہمیشہ دوسری حیثیتوں پر غالب رہی ہے۔لیکن یہاں بھی عورت کو غلامی اور محکومی کی زندگی سے نجات نہیں ملی۔ہندوستان کے مشہور مقنن منوراج  نے عورت کے بارے میں کہا کہ        "عورت خواہ نابالغ ہو خواہ جوان ہو،خواہ بوڑھی ہو،گھر میں کوئی کام خود مختاری سے نہ کرے"         "عورت لڑکپن میں اپنے باپ کے اختیار میں رہےاور جوانی میں شوہر کے گھر میں اسکے اختیار میں رہے اور بیوہ ہونے کے بعد اپنے بیٹوں کے اختیار میں رہے،خود مختار ہو کر کبھی نہ رہے"-            عورت کے لئے قربانی کرنا گناہ ہے، صرف شوہر کی خدمت کرنا چاہیے، عورت کو چاہئے کہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے شوہر کا نام بھی نہ لے،کم خوراکی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن پورے کرے"-          جھوٹ بولنا عورت کا ذاتی خاصہ ہے -         چانکیہ برہمن جس نے منوجی مہاراج کی منوسمرتی کو حشو و زوائد سے پاک کیااو...

Women in arab

عرب اور عورت سے متعلق انکے نظریات: اسلام سے پہلے عورت محض اپنے عورت ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق سے محروم اور  سماج کی نگاہ میں منحوس اور بے وقعت سمجھی جاتی تھی۔ اسلام سے پہلے دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں تھا جہاں عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔         جاہل عرب تو عورت کے وجود ہی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔کسی گھر میں لڑکی کا پیدا ہوناسخت منحوس اور معیوب سمجھا جاتا تھا۔لڑکیاں عام طور پر اپنے باپ کے ہاتھوں زندہ دفن کر دی جاتی تھی۔اہل عرب نرینہ اولاد کی پیدائش پر اتراتے تھے اور لڑکی کی پیدائش انکے لیۓ غم کا باعث بن جا تااور اسکے وجود کوباعث شرم و عار سمجھتے تھا۔       حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ"والله انا كنا في الجاهلية ما نعد للنساء امرا حتى انزل الله فيهن ما انزل و قسم  لهن ما قسم"-       قسم بخدا ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے انکے بارے میں اپنی ہدایات نازل کیں۔اور انکے لیے جو حصہ مقرر کرنا تھا  کیا۔               ایک شخص نےنبی کریم صلی ا...