Woman in ancient history

مسیحی یورپ کی نظر میں عورت : 



سب سے پہلے ہم بات کریں گے یورپ کے بارے میں ،یورپ جو آج مساوات مرد و زن کا سب سے بڑا دعویدار ہے ،اسی یورپ میں ایک صدی پہلے تک عورت مرد کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئ تھی۔۔۔

بنیادی نظریہ : 

یورپیوں کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ ہے ۔نافرمانی کی تحریک کا سرچشمہ ہےاور جہنم کا دروازہ ہے۔انسانی مصیبتوں ک آغاز اسی سے ہوا ،اسکا عورت ہونا ہی اسکے لۓ شرمناک ہے۔اسکو اپنے حسن و جمال پر شرمانا چاہیے کیونکہ وہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اسے کفارہ ادا کرتے رہا چاہیے کیونکہ وہ دنیا اور دنیا والوں کے لۓلعنت اور مصیبت لائی ہے۔
کیونکہ انکے نزدیک آدم کے جنت سے نکلنے کا ایک سبب حوا تھی۔۔

دوسرا نظریہ: 

یہ تھا کہ مرد وعورت کا تعلق بجاۓ خود ایک نجاست ہے،خواہ وہ نکاح کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔۔۔

نتیجہ:

ان دونوں نظریات کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف اخلاق اور معاشرت میں عورت کی حیثیت حد سے زیادہ گر گئ بلکہ مرد و عورت کے لۓ بھی ازدواجی زندگی گزارنا مشکل ہو گیا۔

مسیحی شریعت کے قوانین کی خصوصیات:

  1. معاشی حیثیت سے عورت کوبلکل بے بس کرکے مرد کے قابومیں دے دیا گیا۔
  2. وراثت اور ملکیت میں اسکے حقوق نہایت محدود تھے
  3. وہ خود اپنی محنت کی کمائ پر کوئ اختیار نہیں رکھتی تھی
  4. طلاق اور خلع کی سرے سے اجازت ہی نہ تھی۔زوجین کے درمیان انتہائ شدید حالات میں تفریق کرا دی جاۓ،الگ ہو کر نکاح ثانی کا حق نہ مرد کو تھا نہ عورت کو۔
  5. شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوی کو،بیوی کے مرنے کی صورت میں شوہر کے لۓ نکا ح ثانی کرنا سخت معیوب بلکہ گناہ قرار دیا گیا تھا۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

Who am i (کون ہوں میں)؟؟؟؟؟

Masawat mard o zan

Islam me masawat mard o zan