Women in ancient greece
عورت یونان کی نظر میں:
اقوام قدیمہ میں جس قوم کی تہذیب سب سے شاندار نظر آتی ہے وہ ہے اہل یونان۔انہوں نے تہذیب وتمدن میں اور علوم و فنون میں اس قدر ترقی کی ہے کہ اس بنیاد پر بہت سی تہذیبیں اور بہت سے علم وجود میں آۓ۔
لیکن اس ترقی کے باوجود انکے یہاں عورت کا مقام نہایت ہی پست تھا ۔اہل یونان اپنی معقولیت پسندی کے باوجود عورت کے بارے میں ایسے تصورات رکھتے تھے جنکو سن کر ہنسی آتی ہے،لیکن ان سے اس بات کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انکی نگاہ میں عورت کی حیثیت اور قدر و قیمت کیا ہے۔
اہل یونان کا نظریہ:
آگ سے جل جانے اور سانپ سے ڈسنے کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا مداوا ممکن نہیں۔"پانڈورا" نامی عورت کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہی تمام دنیاوی آفات و مصائب کی جڑ ہے۔ایک یونانی ادیب کہتا ہے "عورت صرف دو مواقع پر مرد کے لیے باعث مسرت ہے ایک شادی کے موقع پر ،ایک انتقال کے موقع پر" ۔ وہ اسکو انسانیت پر بار سمجھتے تھے ۔انکا مقصد اسکے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ خادمہ کی طرح گھر والوں کی خدمت کرتی رہے۔
علم اور تہزیب کا اثر:
تہذیب اور علم کی روشنی کا صرف اتنا اثر ہوا کہ عورت کا قانونی درجہ تو جوں کا توں رہا البتہ معاشرے میں اسے نسبتا ایک بلند حیثیت دے دی گئ۔ وہ یونانی گھر کی ملکہ تھی اسکے فرائض کا دائرہ گھر تک محدود تھا ۔اسکی عصمت ایک قیمتی چیز تھی جسکوقدر وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔شریف یونانیوں کے ہاں پردے کا رواج تھا۔ انکی عورتیں مخلوط محفلوں میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔نکاح کے زریعہ کسی ایک مرد سے وابستہ ہونا عورت کے لیے شرافت کا مرتبہ تھااور اسکی عزت تھی۔بیسوا بن کر رہنا اسکےلیے ذلت کا موجب سمجھا جاتا تھا۔
اہل یونان میں بگاڑ:
رفتہ رفتہ اہل یونان پر نفس پرستی اور شہوانیت ک غلبہ شروع ہوا اور اس دور میں بیسوا طبقہ کو وہ عروج نصیب ہوا جسکی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔رنڈی کا کوٹھا ادنی سے لیک اعلی طبقوں تک ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔یونانیوں کے ذوق جمال اور حسن پرستی نے انکے اندر شہوانیت کی آگ کو اور بھڑکا دیا ۔وہ اپنے اس ذوق کا استعمال جن مجسموں میں کرتےتھے وہی انکی شہوانیت کو اور بھڑکاتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کے ذہن سے یہ تصور ہی محو ہو گیا کہ شہوت پرستی بھی کوئ اخلاقی عیب ہے۔
کام دیوی کی پرستش پورے یونان میں پھیل گئ،جسکی داستان یہ تھی کہ ایک دیوتا کے ہوتے ہوۓ بھی اس نے مزید تین دیوتاؤں سے آشنائ کر رکھ تھی ۔اور ایک فانی انسان کو بھی اسکے جناب میں سرفرازی کا فخر حاصل تھا اسکے بطن سےکیوپڈ پیدا ہو ۔یہ اس قوم کی معبودہ تھی۔یونان مین جب کام دیوی کی پرستش شروع ہوئ تو قحبہ خانہ عبادت گاہوں میں تبدیل ہو گیا ، فاحشہ دیوداسیاں بن گئیں اور زنا ترقی کرکے ایکمقدس فعلبن گیا۔۔۔
Comments
Post a Comment