Freedom of women
علماء یورپ کا فیصلہ:
ہم جانتے ہیں کہ علماء مشرق کتنے ہی قابل کیوں نہ ہو لیکن مشرق والے انکو اپنے کھیت کی مولی ہی سمجھتے ہیں۔انکے مقابلے میں علماء مغرب کی ہر آواز کو آسمانی آواز کا درجہ دیتے ہیں۔اسلئے عورتوں کی آزادی اور فرائض کے بارے میں ہم مغرب کی حقیقت کو خود مغربی علماء کی زبانی واضح کرتے ہیں۔
یورپ کا اافضل ترین عالم اور چوٹی کا مصنف ژول سیمان لکھتا ہے"عورت کو چاہئے کہ عورت ہی بنی رہے،ہاں بے شک عورت کو چاہئے کہ وہ عورت ہی رہے۔اسی میں اسکے لئے فلاح اور کامیابی ہے۔عورت پنے کی خوبی ہی اسکو با برکت بناۓگی اور سعادت کی منزل تک پہنچاۓگی۔قدرت کا یہ قانون ہے اور قدرت کی یہ ہدایت ہے،اسلئے عورت جس قدر قدرت سے قریب ہوگی اسکی سچی قدر اور اصلی عزت بڑھیں گی،اور جس قدر دور ہوگی اسکی مصیبتیں بڑھیں گی اور وہ ذلیل و رسو ہوگی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی سراسر پاپ ہے، پاکیزگی سے خالی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ انسانی زندگی بڑی دلفریب ،پاک اور پاکیزہ ہے ہاں شرط یہ ہے کہہر مرد وعورت اپنی اپنی ذمہ داریوں اور حد بندیوں کو جان لیں جو قدرت کی طرف سے اسکے متعلق ہیں اور ان پر عمل کرے"۔
یہی عالم ایک اور موقع پر لکھتا ہے"جو عورت اپنے گھر کے کاموں کو چھوڑ کر باہر کی دنیا کے کاموں میں شریک ہوتی ہیں اسمیں شک نہیں کہ وہ ایک عامل بسیط (سب کچھ سمیٹنے والے نواب)کا پارٹ ادا کرتی ہے مگر افسوس کہ پھر وہ عورت نہیں رہتی"۔
ایک دوسرا عالم مفکرپروفیسر جیوم فریرو جو تہذیب و تمدن انسانی کا مشہور نقاد ہے ان الفاظ میں عورتوں کی افسوس ناک حالت کی تصویر کشی کرتا ہے"ان عورتوں کو رہن سہن کے اصلی اصول (یعنی زوجیت) سے سخت نفرت ہے۔قدرت نے جس غرض کے لئے انہیں پیدا کیا اور جس کام کے لئے انکو لچکدار اور لوچدار جسم اور اعضاء عطا کئے ہیں انہوں نے اسکو بالکل بھلا دیا ہے۔انہوں نے اپنی پیدائشی حس اور جنسی امتیازات (یعنی عورت پن) کو مار ڈالا۔انکی حالت ایک ایسے درجے تک پہنچ گئی ہے کہ اب نہ وہ عورت رہیں اور نہ مرد بن سکیں بلکہ ایک تیسری جنس کا نمونہ بن گئیں۔وہ مرد اسلئے نہیں کہ انکا جسم مرد نہیں بنا اور وہ عورت اس لئے نہیں کہ انکا عمل عورتوں جیسا نہیں"۔
علماء یورپ تمدن کے اس بڑے گھاٹے پر غور کر رہے ہیں جو قدرتی قانون پر عمل نہ کر کے ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ اگر عورتوں کی یہ افسوسناک حالت اسی طرح کچھ عرصے رہی تو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت جلد سوسائٹی میں ایک بڑا خلل پیدا ہونے والا ہے جو معاشرت اور تمدن کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکےگا"۔
آج یورپ میں حد اعتدال سے بڑھی آزادئ نسواں نے جو نتائج پیدا کئے ہیں انکو دیکھ کر یورپ کے فضلاء وہی طریقہ دینا چاہتے ہیں جو اب سے چودہ صدی پہلے اسلام نے دنیا کو دیا تھا۔۔۔۔
Comments
Post a Comment