Beti rahmat hai
بیٹی دور جہالت میں:
اسلام سے قبل عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ چاہے بیٹی ہو ،بیوی ہو یا ماں ہوں ہر روپ میں دھتکاری گئی۔بے عزت بے حیثیت کی گئی۔
جاہل عرب تو بیٹی کی پیدائش کو ہی باعث
شرمندگی سمجھتے تھے۔
بیٹی رحمت ہے:
مذہب اسلام نے بیٹی کو رحمت اور والدین کی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔انکی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت دی ہے۔ حدیث میں آتا ہے:۔
دوسری جگہ فرمایا: جو کوئی ان لڑکیوں کی وجہ سے کچھ بھی آزمایا گیا ،پھر اس نے انکے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو یہ لڑکیاں اسکے لئے جہنم سے آڑ ہونگی۔
بیٹی دور جدید میں:
صدیوں پہلےجاہل عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ آج دور بدل گیا ہے،ہم ترقی یافتہ دور میں رہ رہے ہیں لیکن بیٹیوں کے متعلق سوچ آج بھی وہی صدیوں پرانی ہے۔بیٹوں کی پیدائش آج بھی باعث فخر ہے۔ بیٹی پیدا کرنا آج بھی نا قابل معافی جرم جسکی پاداش میں بیٹیوں کو طلاق کی سزا دی جاتی ہے۔
صرف اتنا ہی نہیں کئی لوگ تو بیٹی کی پیدائش کے ڈر سے اسے ماں کے پیٹ میں ہی قتل کرڈالتے ہیں۔جہالت آج بھی باقی ہے فرق صرف وقت اور جگہ کا ہے،پہلے پیدا ہونے کے بعد گڑھوں میں دفن کی جاتی تھی آج پیدا ہونے سے پہلے رحم مادر میں ہی مار ڈالی جاتی ہیں،لیکن اس قتل کو ہم نے مہذب لفظوں میں لپیٹ کر ابارشن کا نام دے دیا ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی ہر اس لڑکی کے لئے آواز بلند کی جو زندہ درگور کر دی گئیں تھیں اور آگے بھی کی جائیں گی، ان سےانصاف کا اور انکے ساتھ کی گئیں زیادتیوں کا حساب لینے کا وعد کیا یہ کہہ کر"واذالموؤدة سئلت○بأي ذنب قتلت" ( اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکیوں سے سوال کیا جائیگا۔کس جرم کی پاداش میں وہ قتل کی گئیں)۔الآیۃ
بیٹیاں تو گھر کی رونق اور خدا کی رحمت ہے ۔لوگ کہتے ہیں بیٹے بڑھاپے کا سہارا ہے ،غلط کہتے ہیں ،یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہے جو آخر وقت تک ماں باپ کا خیال رکھتی ہے ۔بیٹیوں کی صحیح تربیت نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔بیٹیاں ماں باپ کا دکھ درد اپنے دلوں پر اٹھاتی ہیں ۔
اسلام نے جو مقام عورت کو چودہ سو سال پہلے ہی دے دیا تھا اب جا کے دھیرے دھیرے اسے وہ مقام دیا جا رہا ہے بیٹیوں کے لئےمہم چلائی جا رہی ہیں ۔"بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ" جیسے نعرے لگاۓ جا رہے ہیں۔
در حقیقت اسلام وہ دین رحمت ہے جس نے ہر ایک کو اسکا صحیح مقام دیا ۔ہر ایک کے ساتھ شفقت و رحمت کا برتاؤ کیااور عورت کو نسلوں کا امین قرار دے کر اسکی بہترین تعلیم وتربیت پر زور دیا۔۔۔



Comments
Post a Comment