Modern ideas about the woman

ظلم کے نتائج:

ظلم کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا ۔عورت ایک طویل عرصہ تک مظلوم چلی آرہی تھی، جب اسکی مظلومیت اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اسکے نتائج بھی انتہائی گھناؤنی شکل میں نمودار ہونے لگے۔ دور جدید میں جہاں زندگی کے بہت سے میدانوں میں انقلاب  آیا وہی عورت کی سماجی حیثیت بھی بدل گئی۔ایک وقت تھا جب مرد اسکو صحیح مقام دینےتک کو تیار نہ تھا لیکن جیسے ہی مو قع ملا وہ اپنی اصل پوزیشن سے آگے بڑھتی چلی گئ اور مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
         عورت کو آزادی کے اس مرحلے تک پہنچانے میں تاریخی طور پر  وقت کے حالات نے بھی ساتھ دیا۔ مرد کی چیرہ دستی اور ظلم کے خلاف نفرت اور غم و غصہ کے شدید جذبات نے بھی آزادئ نسواں کی تحریک کواپنے اندر رہنے نہیں دیا اور اس نے عورت کو وہاں پہنچادیا جہاں عورت عورت نہیں رہتی بلکہ مرد بن جاتی ہے ۔

    جدید نظریات:

     پہلی عالمگیر جنگ جو 1914 میں شروع ہوئی اور 1919میں ختم ہوئی اسکے بعد ہمارے ملک میں تعلیم اور خیالات کے اعتبار سے دو گروہ پیدا ہوئے ایک گروہ جو پرانی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں اور دین دھرم کے گرد گھومتا ہے۔اور دوسرا گروہ جو نئی تعلیم(انگریزی)حاصل کرکے مغرب کو اپنا دیوتا مانتا ہے ۔مغرب کی طرف سے  خیالات اور لٹریچر آتا ہے اور وہ اسکے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا ۔ مغرب اگر عورت کو رونق محفل بنانے کی آواز بلند کرتا ہے تونیا گروہ کچھ نہیں سوچتا ہے کہ اسمیں کیا فائدے اور کیا نقصانات ہیں بس وہی ٹیپ ریکارڈ بجانے لگ جاتا ہے۔ﷲکہتا ہے عورت مرد سے کمزور ہے ،مغرب سے آواز آتی ہے' یہ غلط ہے ' مرد اور عورت دونوں برابر ہے ۔ﷲکہتا ہے کہ مرد کو چاہئے کہ وہ عورت کے کھانے،کپڑے اور گھر کا انتظام کرے،مغرب سے آواز آرہی ہے جی نہیں 'عورت خودکفیل ہے وہ خود کما سکتی ہے وہ مرد کی محتاج نہیں ہے۔اللہ کہتا ہے کہ ایک مرد کی ہو کر رہے گی ،مغرب سے آواز آتی ہے کہ یہ غلامی ہے ،ہر شخص آزاد پید ہوا ہے،اسکو آزاد رہنے کا پورا حق ہے، نیا گروہ یہ بھی تسلیم کر لیتا ہے اور اللہ کے حکموں کو پیچھے ڈال دیتا ہےجن میں کہ نسلوں کی بقاء ہے۔
       اس طرح پچھلے پچاس برسوں میں  عورت کی آزادی کی حمایت میں جو زخیرہ جمع ہو چکا ہے اسکا مطالعہ کیجئے تو اسمیں صرف تین خاص مسئلے ہیں:
  1. عورتوں اور مردوں کی مساوات 
  2. عورتوں کا معاشی استقال
  3. مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط


نقصانات:

 ان جدید نظریات کے بے شمار نقصانات سامنےآئے ،جن میں سے کچھ یہ ہیں
مساواتکا معنی یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مرد و عورت نہ صرف اخلاقی مرتبہ اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں ،بلکہ تمدنی زندگی میں بھی عورت وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔ مساوات کے اس غلط تخیل نے عورت کو اسکے ان فطری وظائف سے غافل کر دیا جنکی بجا آوری پر تمدن کی بقاء بلکہ نسل انسانی کی بقاء کا انحصار ہے۔
        انتخابات کی جد و جہد ،دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت، آزاد تجارتی و صنعتی پیشوں میں مردوں کے ساتھ مقابلہ،سوسائٹی کے تفریحی مشاغل میں شرکت،کلب اور اسٹیج وغیرہ چیزیں اس پر کچھ اس طرح چھا گئی کہ ازدواجی زندگی کی زمہ داریاں، بچوں کی تربیت،خاندان کی تنظیم یہ ساری چیزیں اسکے لائحہ عمل سے خارج ہو گئی۔خاندانی نظام جو تمدن کا سنگ بنیاد  ہے منتشر ہو رہا ہے۔گھر کی زندگی جسکے سکون پر انسان کی قوت کار کردگی کا انحصار ہے عملا ختم ہو ر ہی ہے۔نکاح کا رشتہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہو گیا ہے۔نسلوں کی افزائش کو برتھ کنٹرول ،اسقاط حمل ،اور قتل اولاد کےذریعہ روکا جا رہا ہے۔
      عورت کا معاشی استقلال نے تو اسکو مرد سے بےنیاز کر دیا ہے ،وہ قدیم اصول کہ مرد کماۓ اور عورت گھر کا انتظام کرے اب ا س نئے قاعدے سے بدل گیا ہے کہ عورت اور مرد کماۓاور گھر کا انتطام بازار کے سپرد کر دیا جاۓ۔
       اس انقلاب کے بعد دونوں کی زندگی میں سواۓ ایک شہوانی تعلق کے کوئی ربط باقی نہ رہا جو انکو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہونے پر مجبور کرے۔ ظاہر ہے کہ شہوانی خواہشات کو پورا کرنا کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ مرد و عورت  دائمی تعلق کی گرہ باندھنے اور مشترکہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ،تو وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے آسان اور پر لطف راستہ چھوڑ کر قربانیوں اورذمہ داریوں کے بوجھ سے لدا ہوا دقیانوسی راستہ کیوں اختیار کریں۔ گناہ کا خیال مذہب کے ساتھ رخصت ہوا،سوسائٹی کا خوف یوں دور ہوا کہ سوسائٹی اب ایک فاحشہ ہونے پر ملامت نہیں کرتی ہے بلکہ ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے۔
    یہی وہ چیز ہے جس نے مغربی معاشرت کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔نکاح کے رشتے میں اب کوئی پائیداری نہیں ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے سے  بے نیاز ہو چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر نکاحوں کا انجام طلاق یا تفریق پر ہوتا ہے۔منع حمل،اسقاط ،شرح پیدائش کی کمی اور ناجائز اولادوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بڑی حد تک اسی سبب کی رہین منت ہے ۔بدکاری ،بے حیائی اور امراض خبیثہ کی ترقی میں بھی اسی کیفیت کا بڑا دخل ہے۔ 

     آزادانہ اختلاط  مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش،عریانی اور فحاشی کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔مخلوط سو سائٹی میں دونوں صنفوں کے اندر یہ جذبہ ابھر کر آتا ہے کہ صنف مقابل کے لئے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر بنیں جبکہ اخلاقی نظریات کے بدل جانے کی وجہ سے ایسا معیوب بھی نہیں رہا تو حسن کی نمائش رفتہ رفتہ تمام حدود کو توڑتی چلی گئی اور حسن کی یہ بے حجابی بھڑکتی ہی چلی جا رہی ہے اور شہوانی پیاس سے بیتاب ہو کر بیچارے ہر وقت ہر ممکن طریقے سے اسکی تسکین کا سامان بہم پہنچاتے رہتے ہیں ۔یہ ننگی تصویریں ،صنفی لٹریچر،یہ عشق و محبت کے افسانے ،یہ عریاں اور جوڑواں ناچ، یہ شہوانی جذبات سے بھری ہوئی فلمیں ،آخر کیا ہے؟۔یہ سب اسی آگ کو بجھانے۔مگر دراصل۔بھڑکانے کے سامان ہیں اور اسکا نام انہوں نے آرٹ رکھا ہے۔

     یہ وہ گھن ہے جو بڑی تیزی سے مغربی قوموں کی قوت حیات کو کھا رہا ہے۔یہ گھن لگنے کے بعد آج تک کوئی قوم نہیں بچی۔یہ ان تمام ذہنی اور جسمانی قوتوں کو کھا جاتا ہے جو قدرت نے انسان کو زندگی اور ترقی کے لئے عطا کئے ہیں۔ اور وہ پر سکون فضا جو انکی ذہنی اور اخلاقی نشوونما کیلئے ضروری ہے وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔


Comments

Popular posts from this blog

Who am i (کون ہوں میں)؟؟؟؟؟

Masawat mard o zan

Islam me masawat mard o zan