The status of Roman and Jewish women
عورت روم کی نظر میں:
روم کے اندر تو عورت کا مرتبہ اور ہی پست تھا۔گھر کے ہر فرد کو جو اسکا مالک ہو یا نگراں ہو اسے مکمل اختیار تھا کہ وہ جب چاہےاسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ نیز باپ کو بھی یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی دختر کو جب چاہے جہاں چاہے جس وقت چاہے جس سے چاہے شادی کر دےاور اگر چاہے تو اسکی ازدواجی زندگی ختم کردے۔اور اسکے شوہر کو تو اتنا اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی بیوی کو قتل بھی کر سکتا ہے۔
عورتوں کو سامان کی طرح خریدا اور بیچا جاسکتا تھا عورتوں کا کام صرف یہ تھا کہ وہ دن بھر گھر میں کام کریں اور باہر جا کر مزدوری کریں اور گھر کا سارا کام اور ضروریات کا انتظام کریں،غرض کہ عورتوں کا انکے نزدیک کوئی احترام اور عزت نہیں تھی۔
روم عورتوں کو سانپ اور بچھو سے زیادہ کمتر سمجھتے تھے۔
یہود کی نظر میں عورت:
یہود کی نظر میں وہ شخص خوش قسمت ہے جسکی اولاد میں صرف لڑکے ہوں ،اور وہ وہ شخص بد قسمت ہے جسکے یہاں صرف لڑکیاں ہوں۔ عورت نسل کی بقاء کے لئے ضروری ہے لیکن نفس کے لیے مرغوب نہیں ہے۔
عہد قدیم میں عورت کے متعلق مذکور ہے کہ"میں اپنے دل کے ساتھ حکمت وعقل اور برائی و بے وقوفی کی معرفت کے لیے ادھر ادھر پھرا، مجھے موت سے زیادہ تلخ وہ عورت معلوم ہوئی جو جال کی مانند ہے اور جس کا دل پھندا ہےاور ہاتھ پیر بیڑیاں ہیں"۔
یہودی مذہب میں شادی کے ذریعہ عورت ناقابل فروخت سامان بن جاتی ہے اور خاوند اسکا مالک ہو جاتا ہے، باپ کو بھی لڑکی کی فروخت کا حق حاصل ہے۔
شادی شدہ عورت بچہ اور پاگل کی طرح نا اہل ہے،اسکو خرید و فروخت کی اجازت نہیں ،عورت کا سارا مال شوہر کی ملکیت ہے،بیوی اپنے شوہر کی وارث نہیں بن سکتی۔یہودیوں کا ایک فرقہ لڑکی کوخادمہ کا درجہ دیتا ہے۔لڑکی صرف اسی صورت میں وراثت کی مستحق ہے جب اسکے باپ کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔باپ کی منقولہ جائداد سے خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو لڑکی کو کبھی کچھ نہیں مل سکتا۔
اسی طرح یہودی عام طور پر عورت کو لعنت تصور کرتے ہیں، کیونکہ انکے خیال کے مطابق اسی نے حضرت آدمؑ کو گمراہ کیا تھا۔
Comments
Post a Comment