Woman in Hinduism
ہندو مذہب میں عورت کامقام:
ہندوستان ایک مذہبی ملک سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اسکی حیثیت ہمیشہ دوسری حیثیتوں پر غالب رہی ہے۔لیکن یہاں بھی عورت کو غلامی اور محکومی کی زندگی سے نجات نہیں ملی۔ہندوستان کے مشہور مقننمنوراج نے عورت کے بارے میں کہا کہ
"عورت خواہ نابالغ ہو خواہ جوان ہو،خواہ بوڑھی ہو،گھر میں کوئی کام خود مختاری سے نہ کرے"
"عورت لڑکپن میں اپنے باپ کے اختیار میں رہےاور جوانی میں شوہر کے گھر میں اسکے اختیار میں رہے اور بیوہ ہونے کے بعد اپنے بیٹوں کے اختیار میں رہے،خود مختار ہو کر کبھی نہ رہے"-
عورت کے لئے قربانی کرنا گناہ ہے، صرف شوہر کی خدمت کرنا چاہیے، عورت کو چاہئے کہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے شوہر کا نام بھی نہ لے،کم خوراکی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن پورے کرے"-
جھوٹ بولنا عورت کا ذاتی خاصہ ہے -
چانکیہ برہمن جس نے منوجی مہاراج کی منوسمرتی کو حشو و زوائد سے پاک کیااور جسکی تعلیمات ایک عرصہ تک حکومت کا دستورالعمل رہیں،وہ عورت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے:
دریا ،مسلح سپاہی،پنجے اور سینگ رکھنے والے جانور،بادشاہ اور عورت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔
"جھوٹ بولنا،بغیر سوچے سمجھے کام کرنا،فریب،حماقت،طمع ،ناپاکی،بے رحمی یہ عورت کے جبلی عیب ہے"۔
ہندوستان کی تہذیب میں عورت متضاد حیثیت کی حامل تھی جو انتہائی حیرت انگیز تھی۔نو مولود بچی کا جل پرواہ(ٹوکری میں رکھ کر پانی میں بہا دینا)، بیوہ عورت کا ستی ہونا یعنی شوہر کے ساتھ چتا میں بیوی کو زندہ جلانے کا رواج اور ستی نہ ہونےکی شکل میں سماج میں اسکا سوشل بائیکاٹ،منحوس ڈائن اور کلنک کی تصویر ،تمامتر حقوق مراعات اور خوشیوں سے محروم حسرت و یاس و غم و اندوہ کی زندہ مورت تو دوسری طرف اسی صنف کی درگا لکشمی،سرسوتی،کالی وغیرہ ہزاروں دیویوں کی پوجا کی جاتی تھی۔
ہندوستان میں بقول ڈاکٹر امبیڈکرقدیم آرین معاشرہ میں باپ بیٹی سے اور بیٹا ماں سے شادی کرتا تھا اور اسکو مذہبی طور جائز سمجھا جاتا تھا۔
ہندوستان میں عورتیں باقاعدہ بازار میں بیچی جاتی تھیں اور بیک وقت ایک ہی عورت کئی کئی مرد کی بیوی رہا کرتی تھی اور یہ سب جانتے ہیں کہ دروپدی کے بیک وقت پانچ شوہر تھے جو پانچ پانڈو کے نام سے مشہور ہیں۔۔۔۔
Comments
Post a Comment