Women in arab

عرب اور عورت سے متعلق انکے نظریات:

اسلام سے پہلے عورت محض اپنے عورت ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق سے محروم اور  سماج کی نگاہ میں منحوس اور بے وقعت سمجھی جاتی تھی۔ اسلام سے پہلے دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں تھا جہاں عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔
        جاہل عرب تو عورت کے وجود ہی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔کسی گھر میں لڑکی کا پیدا ہوناسخت منحوس اور معیوب سمجھا جاتا تھا۔لڑکیاں عام طور پر اپنے باپ کے ہاتھوں زندہ دفن کر دی جاتی تھی۔اہل عرب نرینہ اولاد کی پیدائش پر اتراتے تھے اور لڑکی کی پیدائش انکے لیۓ غم کا باعث بن جا تااور اسکے وجود کوباعث شرم و عار سمجھتے تھا۔

      حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ"والله انا كنا في الجاهلية ما نعد للنساء امرا حتى انزل الله فيهن ما انزل و قسم  لهن ما قسم"-
      قسم بخدا ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے انکے بارے میں اپنی ہدایات نازل کیں۔اور انکے لیے جو حصہ مقرر کرنا تھا  کیا۔
              ایک شخص نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جاہلیت کا قصہ سنایا کہ میری ایک بچی تھی اور وہ مجھ سے بہت مانوس تھی۔جب کبھی میں اسے بلاتا تو وہ بڑی ہی مسرت سے میرے پاس آتی تھی۔چنانچہ ایک دن میں نے اسے آواز دی تو وہ میرے پیچھے پیچھے دوڑی چلی آئی۔میں اسے اپنے ساتھ لے گیااور قریب ہی ایک کنویں میں جھونک دیااور وہ اس وقت بھی ابا جان ابا جان ہی کہتی رہی۔
اس مظلوم صنف کو زندہ بھی رکھتے تو اس سے تمام حقوق زندگی بھی سلب کر لیتے تھے۔شادی کی کوئی حد نہیں تھی۔جتنی عورتوں کو چاہتے اپنے نکاح میں رکھ لیتے۔
      اس طرح طلاق پر بھی کوئی پابندی نہیں تھی،مرد جب چاہتا جتنی دفعہ چاہتا طلاق دیتا  اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا۔جب تک خاوند زندہ رہتا  وہ اسکےما تحت رہتی،خاوند کے انتقال کے بعد اسکے ورثاء کا اس پر مکمل حق ہوتا،چاہتے تو خود ہی اس سے شادی کر  لیتے اور وہ اس میں بھی آزاد تھے کہ اسکی شادی ہی نہ ہونے دے۔
            بیوہ کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے اسے دوبارہ ازدواجی زندگی سے ہی محروم کردیتے، بعض اوقات کسی کمسن لڑکے کے بڑے ہونے تک اسے روکے رکھتے تاکہ وہ ا س سے شادی کر سکے
            سوتیلی ماں تک سے شادی  کرنا انکے  نزدیک معیوب  نہ تھا 
         اگر کوئی صاحب ثروت  ،حسین یتیم لڑکی کسی شخص کی سر پرستی میں آجاتی تووہ خود ہی اس سے نکاح کر لیتا اور مہر بھی ٹھیک سے نہ ادا کرتا۔ 
          وراثت مین اسکا کوئی حصہ نہ تھا۔جاہلیت میں عورت کی عدت ایک سال تھی ۔عورت اپنے شوہر کی وفات کا سوگ مناتی تو نہایت ہی گندے کپڑے پہنتی اور سب سے برے کمرے میں رہتی اور زینت و طہارت کو چھوڑ دیتی۔پانی کو نہیں چھوتی تھی اور نہ ناخن کاٹتی تھی اور جب سال  ختم ہونے کے بعد  وہ نکلتی تو   نہایت بد ترین صورت میں اور نہایت ہی بدبودار ہو کر۔
               عرب کے لوگ لونڈیوں ک زنا پر  مجبو کرتے اور انکی کمائ کھاتے تھے۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

Who am i (کون ہوں میں)؟؟؟؟؟

Masawat mard o zan

Islam me masawat mard o zan