عورت زمانہ قدیم اور جدید میں

عورت قدیم زمانے کی ہو یا جدید زمانے کی ہو ہر دور میں سماج کا سب سے پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔ کبھی سماج میں اسےایک ناکارہ عنصر ،لایعنی شئ سمجھ کر ایک کونے میں ڈال دیاگیا تو کبھی اسے
نحوست اور جاست ہی نہیں بلکہ لعنت اور عذاب سمجھا گیا۔اسکی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی۔حتی کہ اسے اسکے بنیادی حقوق تک سے محروم کردیا گیا تھا۔
دور جدید میں آزادئ نسواں
ایک مدت تک ذلت اور غلامی میں قید رکھنے کے بعد
اچانک ہی اسے اسکے اصل مقام سے اٹھاکر ایک نیا مقام اور آزادی دی جا رہی ہے ۔ دور جدید میں عورت کی آزادی اور حقوق کو لے کر ایک نیا ہی غلغلہ اور شور بپا ہے۔عورتوں کو مردوں کے برابر درجہ اور حقوق دینے کے لیے تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ایک مدت تک قید رہنے والی عورت کو آزادی اور مردوں کی برابری کا یہ تصور اسقدر خوشنما و خوشکن محسوس ہوا کہ وہ اپنی ساری حدود و قیود کو پھلانگ کر ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی جہاں جا کر عورت عورت نہیں رہتی بلکہ مرد بن جاتی ہے۔
آج فیمینیزم کے نام تحریکیں چلائی جا رہی ہیں جسمیں عورتیں مردوں کے برابر حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں اور زور و شور سے کر رہی ہیں۔
عورت کے تعلق سے افراط و تفریط کے اس سلسلے نے سماج و معاشرہ پر جو نقصان دہ اثرات مرتب کئے ہیں وہ کسی بھی عقل و فہم رکھنے والے سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
عورت کے تعلق سے صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے عورت کو لیکر اعتدال کا رویہ اپنایا ہے،اور عورت کو 1400سال پہلے ہی وہ تمام حقوق دے دئیے جو اب جاکر عورت نے حاصل کئے ہیں یا اسکے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔
اسلام میں عورتوں کے حقوق
مذہبی حقوق
معاشی حقوق
سماجی حقوق
تعلیمی حقوق
مذہبی حقوق
اسلام نے مرد اور عورت دو نوں کو برابر کے مذہبی حقوق دئے۔دنیا میں آج بھی بہت سارے مذاہب ایسے ہیں جسمیں ساری عبادتیں مردوں کیلئے ہیں اور عورتیں اگر عبادت کرینگی بھی تو اسکا فائدہ انکے مردوں کو ہوگا ۔لیکن اسلام نے واضح طور پر فرمادیا کہ مرد ہو یا عورت جو بھی نیک کام کریگا اسے برابر کا ثواب ملے گا۔
یہ حق اس زمانے میں عورتوں کو ملا جس زمانے میں موجود مذاہب میں عورتوں کو منحوس سمجھا جاتا تھا اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تک کہا جاتا تھا کہ یہ شیطان کی وجہ سے پید اہوئی اور یہی جنت سے نکالے جانےکی وجہ ہے۔
اسلام نے صاف اور واضح طور پر فرمادیا کہہر وہ عبادت جو مرد کر تا ہے عورت بھی کرےگی اور ہر ایک کی عبادت کا ثواب اور فائدہ خود اسکو ہی ملیگا کسی دوسرے کو نہیں۔
سماجی حقوق
اسلام نے سماج میں اسکی حیثیت کا تعین کردیا ۔اور اسے ہر رشتے کے اعتبار سے عزت بخشی۔ بیٹی ہونے کی صورت میں اسے والدین کی نجات کا ذریعہ بتاکر اسکی اچھی تعلیم و تربیت کی تاکید کی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب عورت کو جینے کا کوئی حق نہیں تھا اسے پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا تھا ۔اسلام نے سختی کے ساتھ اس کی ممانعت کی اور فرمایا"﴿وَاِذَالْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ○ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتٌ○﴾ اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائیگا کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی؟؟؟
بیوی ہونے کی صورت میں اسے مرد کا ہی ایک حصہ بتا یااور دین کی تکمیل کا ذریعہ بتایا۔اور مرد پر اسکے ساتھ بہتر سلوک اور اسکی ہر زمہ داری کو پورا کرنا واجب کردیا اور فرمادیا گیا کہ" تم میں بہتر وہی ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ بہتر ہے"۔
اور جب یہی عورت ماں بن جاۓ تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی اور انکے ساتھ حسن سلوک کو واجب کردیا گیا۔
- اسلام نے سب سے پہلے عورت کو انسانیت کے ناطے عزت بخشی اور واضح طور پر بتا دیا کہ عورت بھی انسان ہے اور عزت اسکا حق ہے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے"﴿ولقد کرمنا بنی آدم﴾"۔ تحقیق کہ ہم نے بنی آدم (مرد و عورت )کو عزت بخشی ہے۔۔
ایک حدیث پاک میں رسول ﷺنے فرمایا"النساء شقائق الرجال"۔عورتیں مردوں کا ہی ایک حصہ ہیں۔
2. بیٹی ہونے کی حیثیت سے اسکا نان نفقہ ،اسکی دیکھ بھال باپ کے اوپر فرض ہے۔اسلام نے اسے باہری دنیا کی تکلیف وآزار ،فکر ومعاش وغیرہ کی زمہ داریوں سے بچاکر یہ تمام چیزیں اسکے گھر کے مرد پر واجب کردی اور اسے ہر قسم کی مصیبتوں سے نجات دے دی۔
اور شادی کے بعد اسکے نان نفقہ کی زمہ داری اسکے شوہر کی ہے ۔رسول ﷺنے فرمایا"﴿وَلَهُنَّ عَلَيكُمْ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾" اور تمہاری بیویوں کا تم پر حق یہ ہیکہ تم انہیں معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرو۔۔۔۔
3- نکاح کے وقت اسکی مرضی اور پسند کا اسکو پورا حق دیا ،اور واضح طور پر اس سلسلے میں احکامات بھی متعین کر دیئے گئے ہیں۔
اگر اسکی مرضی کے بغیر اسکا نکاح کر دیا جاۓ تو اسے اس نکاح کو فسخ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آتا ہیکہ"حضرت خنساء ؓ رسولﷺکے پاس آتی ہے اور کہتی ہے میرا نکاح میری مرضی کے بغیر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ نکاح فسخ ہے تو کسی اور سے نکاح کر لے۔عورت پر اتنا کرم اسلام نے کیا ہے کہ اسکی مرضی کے بغیر کیۓ ہوۓ نکاح کونکاح ہی نہیں کہا بلکہ اسے فسخ قرار دیا۔
4- نکاح کے سلسلے میں عورت کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ اگر عوررت کو کوئی شخص پسند آجاۓ تو وہ بذات خود جاکر اس سے نکاح کی بات کر سکتی ہے۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آتا ہیکہ "ایک صحابیہ رسول کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ :یا رسول اللہﷺمیں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ایک روایت میں آتا ہیکہ حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا کہ"کیسی بے شرم عورت ہے جو اپنے منہ سے رسول کو نکاح کا کہہ رہی ہے "نبی ﷺنے پلٹ کر کہا :"سب سے عقلمند عورت ہے دنیا کے سب سے اچھے انسان کو پسند کیا"۔
رسول نے یہاں اس عورت کے خود آکر نکاح کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا نہ اسکے اس عمل کو برا جانا
5-
ان بن ،ناچاقی اور نباہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کے پاس خلع کا پورا پورا حق ہے ۔کوئی اسے زبردستی اس رشتے میں باندھ کر نہیں رکھ سکتا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :﴿"فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيمَا حُدُوْدَ اللّٰه فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾"- اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالی کی حدود کی پابندی نہ کر سکیں گے تو پھر عورت اگر کچھ دے دلا کر اپنی گلو خاصی کرا لے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
تعلیمی حقوق
5- اسلام وہ مذہب ہے جسکی پہلی وحی ہی تعلیم کا حکم دیتی ہے ارشاد ربانی ہے : "اِقْرأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِىْ خَلَقْ○ پڑھ اس رب کے نام
سے جس نے پیدا کیا "۔۔
لہذا تعلیم کے حصول میں مرد و عورت کی کوئی تفریق اسلام نے نہیں کی دیگر مذاہب کی طرح جن میں عورت کا تعلیم حاصل کرنا فتنہ کا باعث سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ اسلام نے اسے
علم حاصل کرنے کا حق دیا۔ فرمان رسول ﷺ ہے کہ "طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ"۔ علم کا حاصل کرنا ہر مرد وعورت پر فرض ہے ۔ رسول ﷺ نے خود عورتوں کے درس و تدریس کے لئے ایک دن مقرر کر دیا تھا ۔ تاکہ وہ بھی دین کا علم حاصل کر سکے ۔ اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت کر سکے۔ اولاد کی تربیت کے لئے ایک ماں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا بہت ضروری ہے۔اور تعلیم ہی نسان کو شعور دیتی ہے ۔اسلئے کہتے ہیں کہ عورت اگر جاہل ہو تو جہالت نسلوں میں سفر کرتی ہیں ۔
نبی کریم ﷺنے حصول علم پر بہت زور دیا(بغیر مرد و عورت کی تفریق کے) اور نبی ﷺ کے بعد ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے صحابی پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے حضرت عائشہ کے پاس آیا کرتے تھے ۔اور روایات میں آتا ہے کہ 36مردوں نے حضرت عائشہ سے علم حاصل کیا ۔
دنیا کی پہلی یونیورسٹی جو جب سے قائم ہوئی تب سے اب تک چل رہی ہے جو دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے جو مراکش میں قائم ہے اسے ایک عورت فاطمہ الفہری نے قائم کیا جسکا نام یونیورسٹی آف قراوین ہے۔گنیز بک آف ریکارڈ میں جسے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہےجو آج بھی چل رہی ہے
یہ ہے اسلام کے عورتوں کو دئیے ہوۓتعلیمی حقوق کہ جس کے بل پر وہ بڑی بری یونیورسٹیاں قائم کرتی ہیں اور جہاں سے بڑے بڑے مرد بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
معاشی حقوق
6- جائیداد میں عورت کو حصہ دیا۔جبکہ آج بھی بہت سے
قوم و مذاہب میں عورت کا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ۔اللہ تعالی سورۃالنساء میں ارشاد فرماتا ہے"﴿وَلِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا﴾"○والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اسمیں مردوں کا حصہ ہوتا ہے ۔اور والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اسمیں عورتوں کا بھی حصہ ہوتا ہے چاہے مال تھوڑا ہو یا زیادہ ۔اور یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کئے گۓ ہیں۔
7- شادی پر مہر لینا عورت کا حق ہے ۔اور کوئی بھی شوہر زبردستی اپنی بیوی سے اسکا حق مہر معاف نہیں کروا سکتا۔
زبردستی حق مہر معاف کروانے کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے ۔رسولﷺ نے فرمایا"جو شخص کم یا زیادہ حق مہر پر کسی عورت سے شادی کرے اور اسکے دل میں اسکا حق اسے ادا کرنے کا خیال ہی نہ ہو تو وہ دھوکہ کرتا ہے۔پھر اسی حال میں اسکی موت آجاۓ کہ ابھی اس نے اسکا حق ادا نہیں کیا تھا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ زانی (بدکار) ہوگا"۔
8- عورت کو ملکیت کا حق دیا ۔ دوسرے لفظوں میں عورت کو
مالکانہ حقوق عطا کئے وہ اپنی مرضی سے کوئی بھی چیز خرید اور بیچ سکتی ہے۔ مثلا کوئی زمین جائیداد یا کوئی بھی سامان۔ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو یہ حق دے دیا جبکہ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ برٹش حکومت نے 1870 میں عورت کو پراپرٹی خریدنے اور بیچنے کا حق دیا۔ ہم تاریخ اسلام کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیںکہہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی بیوی ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری بھی بزنس(تجارت) کیا کرتی تھی ۔بلکہ وہ اپنا خود کا ذاتی مال جس کی وہ مالک تھی اسے دوسرے تاجروں کو بٹائی(پارٹنرشپ)پر دیا کرتی تھی۔۔
9- عورت اگر چایے تو اپنی حدود کا خیال رکھتے ہوۓ کمائی بھی کر سکتی ہے اور اسکی کمائی پر صرف اور صرف اسکا ہی حق ہے۔ اسکے باپ، بھائی یا شوہر کا اسکی کمائی پر کوئی حق نہیں ہیں جبکہ عورت انکی کمائی پر پورا حق رکھتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے:" لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ○ آدمی کے لئے حصہ ہے اسمیں سے جو اس نے کمایا اور عورت کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو اس نے کمایا۔۔۔۔
اسلام نے معاشی طور پر عورت کو ہر جانب سے مضبوط کیا۔اوراسے ہر جانب سے معاشی فائدہ پہنچایا۔
قانونی حقوق
10- اسلام نے عورتوں کو قانونی حقوق دئے اس زمانے میں جب عورتوں کو بولنے تک کی آزادی نہیں تھی ۔جس زمانے میں عورت کو مرد کے جرم کے بدلے میں قتل کردیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورتوں کو مردوں کے برابر قانونی حقوق دئیے اور واضح کر دیا کہ مرد ہو یا عورت جرم کرنے پر سزا دونوں کو برابر ملےگی ۔اب کوئی عورت کسی مرد کے بدلے میں سزا نہیں پائیگی۔
اسلام نے عورتوں کو اتنا قانونی تحفظ فراہم کیا کہ اگر کوئی کسی عورت پر بدکاری کا الزام لگاۓ اور 4 گواہ نہ پیش کر سکے اسے 80 کوڑے لگاۓ جائیں گے اور اگر کوئی اسکی عصمت پر ہاتھ ڈالے تو اسے سزاء موت دی جائیگی۔
عورتوں کو اپنی بات رکھنے کی آزادی دی یہ وہ زمانہ تھا جب عورتوں سے کسی معاملے میں مشورہ نہیں لیا جاتا تھا
عورت اگر اپنے کسی قرابت دار کے قاتل کو معاف کردے تو اسکی معافی کو کوئی ختم نہیں کر سکتا ۔عورت اگر حالت جنگ میں کسی مجرم کو پناہ دے تو اسکی پناہ کو رد نہیں کیا جائیگا ۔
یہ وہ دین تھا جس نے عورت کو اتنی آزادی اور حقوق دئے کہ وہ بھرے مجمع میں کھڑے ہو کر امیر المؤمنین کی بات کو رد کر سکتی ہے اور امیر المؤمنیں بغیر چوں چراں کئے اسکی بات کو تسلیم کر لیتا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہےکہ ایک دفعہ خلیفۂ دوم حضرت عمر نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ عورتیں مہر کے سلسلے میں زیادتی کر رہی ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ مہر کی ایک رقم مقرر کر دی جاۓ تاکہ نکاح میں آسانی ہو (وجہ یہ تھی کہ عورتوں نے اس زمانے میں مہر کی رقم اتنی بڑھا دی تھی کہ نوجوانون کے لئے نکاح مشکل ہو گیاتھا) ۔مجمع سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہا :"اے عمر جس معاملہ میں اللہ کہتا ہے ( "وَاتَيْتُمْ اِحْدَاهُنَّ قِنْطَارَاً" کہ اگر تم نے انکو خزانہ بھی دیا ہو تو۔۔۔۔۔) یعنی جب اللہ نے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی تو تم حد مقرر کرنے والے کون ہوتے ہو؟؟؟ یہ سن کر عمر ؓجو کہ خلیفۃ المسلمین ہے ،جسکا رعب انسان تو انسان جن بھی جنکے ڈر سےراستہ بدل لیتا ہے وہ عمر ایک عورت کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں "عورت نے صحیح کہا ۔عمر غلطی پر تھا"۔
11- اسلام نے عورتو ں کو ملٹری میں جانے کی بھی اجازت دی جبکہ
امریکہ نے1976 میں پہلی بار عورتوں کو فوج میں جانے کی اجازت دی۔رسول ﷺکے دور میں صحابیات جنگوں میں شریک ہوتی تھی اور مردوں کے شانہ بشانہ لڑائی کیا کرتی تھی۔اور جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھی ۔
یہ تھے وہ حقوق جو اسلام نے عورتوں کو 1400 سال پہلے ہی دے دیے تھے ۔اور اس زمانے میں دئیے جب عورت کو صرف ایک استعمال کی چیز سمجھا جاتا تھا ۔اسے جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا جا تا تھا۔
اسلام نے جو حقوق عورتوں کو دئیے وہ اس قدر بہترین،معتدل اور متوازن ہے کہ دنیاکے کسی اور مذہب اور قوم میں اسکی مثال نہیں ملتی۔
Comments
Post a Comment